کیا مومن کا یہ شعر عجز کلام کا نمونہ ہے؟
ہمارے ایک نہایت پڑھے لکھے دوست، جو کلاسیکی شعر کے رموز کو سمجھتے اور انیسویں صدی کی مغلیہ تہذیب کی مالا جپتے ہیں، مومن کے اس شعر کے دوسرے مصرعے کو گنوار پن سے منسوب کرتے ہیں:
وحشت سے میری سارے اطباء چلے گئے
آنا ہے گر تو آؤ کہ خالی مکاں ہے اب
پہلے اس قصے کی تفصیل بیان کرنا ضروری ہے۔ میں کم سے کم پچھلے سات آٹھ برسوں میں دو تین مرتبہ مومن کی غزلیات سے گزر چکا ہوں۔ مومن بحثیت شاعر مجھے زیادہ پسند نہیں ہیں۔ میں ذوق کو ان سے بہتر شاعر جانتا ہوں۔ غالب یار باش آدمی تھے۔ وہ ذوق کو برابر کا شاعر نہیں سمجھتے تھے۔ لوگوں کی کم ہمتی اور دربار شاہی میں رسائی حاصل کرنے کے قضیے میں ذوق اور غالب کی معاصرانہ چشمک کو طول و بلد میں شہرت مل گئی۔ غالب نے خطوں میں اس بات کا بہ کثرت ذکر کیا ہے کہ ذوق اور ان کا کوئی مقابلہ نہیں۔ ظاہر ہے، اس کی عملی صورت یہ ہو سکتی تھی کہ ذوق کے مقابلے میں کسی دوسرے، ہم درد شاعر کو بہتر بنا کر پیش کیا جائے۔ مومن غالب کے دوست بھی تھے اور ایک طرح سے پڑوسی بھی۔ لہٰذا غالب نے یہی کیا۔ مومن کی جواں مرگی کے بعد بھی غالب خطوں میں مومن کا ذکر محبت سے کرتے رہے۔ مثلاً ایک خط میں ان کے لیے مصرع تک گھڑا : طبیعت اس کی معنی آفریں تھی! (دل چسپ بات ہے، غالب نے مومن کی طبیعت کے بارے میں ایک مجموعی رائے دی ہے نہ کہ محض شاعری کے حوالے سے۔ آزاد نے آبِ حیات میں مومن کی تنقیص میں جو دو جملے کہے ہیں، ان کے باوجود وہ مومن کی ذات (=طبیعت) کی مجموعی جدت و جودت کے قائل رہے۔)
لیکن سوال یہ ہے، خیال آفرینی، نازک خیالی اور تعقیدِ لفظی کیا ایسی بڑی اصطلاحیں ہیں، جو صدیوں مومن کی شاعری کی پشت پناہی کر سکیں؟
اس ساری بحث پر بات کرنے سے پہلے میں یہ بات ضرور سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ کوئی بھی کلاسیکی شاعر، بھلے ہی ہمیں پسند نہ ہو، شعری سطح پر اختلاف کے علاوہ کسی بھی اور بنیاد پر تخفیف و تضحیک کا حق دار نہیں۔ یہ سارے لوگ اگر ایک پہلو سے نہیں تو دوسرے حوالے سے ہمارے لیے بے حد قابل احترام ہیں۔
شاعرانہ طور پر مومن کی اصل دقت یہ ہے، کہ وہ رسمیاتی بیانات کے اندر کسی نوع کی جان ڈالنے سے قاصر رہتے ہیں۔ ظاہر ہے، ایسا نہیں، ان کے ہاں اچھے شعر سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ لیکن تناسب کے اعتبار سے، ہزار میں سے پچاس ستر اچھے شعر نکالنے کو میں شاعری، خصوصاً کلاسیکی شاعری کی کامیابی نہیں سمجھتا۔ اردو شاعری کا مزاج ہے، عام سے عام شاعر دو چار اچھے شعر نکال لیتا ہے۔ تاریخ ادب میں کئی شاعر ایک ہی شعر کے سر پر زندہ ہیں۔ مومن کے ہاں کیفیت کے شعروں کی اپنی شان ہے۔ لیکن معنی اور بڑے مضمون کے پہلو کو سامنے لانے کے حوالے سے ان کا دامن اکثر تہی رہتا ہے۔ میں نے پچھلے دنوں کیفیت کے باب میں مومن کے ایک شعر کی شرح کی تھی، جسے احباب نے پسند بھی کیا :
کیا اس نے قتل جہاں اک نظر میں
کسی نے نہ دیکھا تماشا کسی کا
برادرم پروفیسر عمیر منظر صاحب نے آگاہ کیا اور ثبوت مہیا کیا کہ اس شعر کا متن یوں بھی ملتا ہے :
کیا تو نے قتل جہاں اک نظر میں
کسی نے نہ دیکھا تماشا کسی کا
دو چار دن پہلے، از سر نو، دیوان مومن کی سیر کی۔ ایک شعر نظر پڑا۔ مجھے معقول معلوم ہوا۔ خصوصاً پہلا مصرع نک سک کے اعتبار سے نہایت بھلا ہے، لیکن ایک دوست نے اس پر چند اعتراضات اٹھائے، جو مجھے بھی کسی حد تک معقول معلوم ہوئے، وہ قارئین کے پیش خدمت ہیں، شعر دوبارا دیکھیے:
وحشت سے میری سارے اطباء چلے گئے
آنا ہے گر تو آؤ کہ خالی مکاں ہے اب
ہمارے رفیق دیرینہ کا کہنا ہے، یہ شعر جس میں مومن نے سارا مضمون لفظ، وحشت، کے گرد بُنا ہے، وحشت کا درست استعمال کرنے سے قاصر ہے۔ وحشت، خود کوئی بیماری نہیں، بل کہ دیگر کئی بیماریوں مثلاً خفقان یا انتشار ذہنی کے جملہ اوصاف میں سے ہے۔ وحشت کا تقاضا، گھر بار یا تنگ و بند جگہ چھوڑ کر وسیع و عریض مقام مثلاً دشت و بیاباں کی راہ لینا ہوتا ہے۔ واضح ہے، وحشت تنگی کی بجائے، وسعت اور بے کرانی سے دور ہوتی ہے۔ اردو میں وحشت کی اس صفت کے حوالے سے تقریباً ہر شاعر نے
شعر کہہ رکھے ہیں، میر کے ہاں تو وحشت پر درجنوں عمدہ شعر مل جائیں گے :
آ جاتے شہر میں تو جیسے کہ آندھی آئی
کیا وحشتیں کیا ہیں ہم نے دوان پن میں
(دیوان دوم )
غالب:
وحشت پہ میری عرصۂ آفاق تنگ تھا
دریا زمین کو عرقِ انفعال ہے
وحشی کے ساتھ آہوئے رم خوردہ کا لازمی و ملزوم تلازمہ بھی بتاتا ہے کہ وحشی ہرن یا انسان ایک جگہ، چین یا قرار سے نہ بیٹھے گا۔ یہ بات صرف اردو فارسی شاعری میں نہیں، دیگر زبانوں میں بھی موجود ہے۔ والٹ وٹمین، جن کا ترجمہ قیوم نظر نے کیا ہے، اپنی ایک نظم میں کہتے ہیں:
I tramp a perpetual journey, (come listen all!)
Each man and each woman of you I lead upon a knoll,
My left hand hooking you round the waist,
My right hand pointing to landscapes of continents and the public road.
وحشت کا طبی و طبعی تقاضا بھی یہی ہے۔ مومن کے شعر میں وحشت کے وظیفے کو یک سر بدل دیا گیا ہے۔ یعنی وحشت (دیوانہ پن یا شوریدگی) سے تنگ آکر اطباء چلے گئے ہیں۔ اب گھر خالی ہے (حالاں کہ گھر عملاً خالی نہیں، عاشق یا شاعر گھر ہی میں موجود ہے)۔ سوال یہ ہے، اگر متکلم کو حقیقی وحشت تھی تو کیا اسے خود گھر سے باہر نہیں نکلنا چاہئیے تھا؟
اصلاً مومن کے اس پیغام میں ایک طرح کی ہوس ناکی اور دنیا والوں کی نظر سے چھپ کر آنے کی تمہید پوشیدہ ہے۔ چلیے یہاں تک مومن کو تقلیبِ مضمون کی چھوٹ دی جا سکتی ہے۔ لیکن اگلا مصرع اردو کی شعری روایت میں عجیب و غریب صورت حال کو سامنے لاتا ہے۔ یہ واضح ہے کہ شاعر، محبوب کو بلانا چاہ رہا ہے، لیکن کیا بلانے کا انداز مناسب ہے۔ آنا ہے گر تو آؤ، کے لفظوں میں ایک طرح کی سرعت (Urgency) کے علاوہ منفی اور اور غیر عاشقانہ روش موجود ہے۔ جس کو بلایا جا رہا ہے، وہ محبوب سے زیادہ، call person معلوم ہوتا ہے۔ گویا آنا جانا، مسئلے اور دقت کی بات نہیں، صبح و مسا کی عادات میں سے ہے۔ ایسا نہیں کہ اردو شاعری میں محبوب کے منفی پہلوؤں پر شعر نہیں کہے گئے، لیکن وہ محبوب، جسے گھر آنے کی دعوت دی جا رہی ہو اور جس کے لیے باوقار اور سنجیدہ ماحول تیار کیا جائے، عملاً اس سے زیادہ توقیر کا متقاضی ہے۔
میں اس شعر کو یہ رعایت دینے کے حق میں ہوں کہ شاعر محبوب کو شاید اس وظیفے کے لیے بلا رہا ہے جو اطباء سے انجام نہیں پا سکا، یعنی چارہ گری، لیکن اس مضمون کے لیے بھی، آنا ہے گر تو آؤ، کے الفاظ مناسب نہیں ہیں۔ عاشق کے لیے دشواری اور عدم دشواری میں انتخاب کا رستہ میں ہوتا۔
ایک جواب یہ دیا جا سکتا ہے کہ محبوب غفلت شعار ہوتا ہے۔ یہ بات درست ہے، لیکن عاشق کب سے غفلت شعار اور انتخاب کا حق استعمال کرنے والا بن گیا؟
خالی مکان، کہیں نہ کہیں، جسم کا کنایہ بھی معلوم ہوتا ہے، لیکن اس کنائے کو کھولنے کے لیے کوئی شعر کے اندر کوئی موزوں لفظ موجود نہیں۔ مومن نے وحشت کے حوالے سے ایک دوسرے شعر میں نسبتاً زیادہ بہتر بات نکالی ہے:
کر علاج جوش وحشت چارہ گر
لا دے اک جنگل مجھے بازار سے
ایسا تو نہیں، اطباء کے سامنے وحشت کا اظہار محض گھر کو خالی کرنے اور تخلیہ حاصل کرنے کی نیت سے تھا؟ اگر ایسا ہے تو وحشت ایک حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔
بکھیر صورت دوسرے مصرعے کا پہلا ٹکڑا ہر صورت میں صحیح معلوم نہیں ہوتا ہے۔
محبوب کو لوگوں کی نظروں سے بچا کر گھر آنے کے حوالے سے عمدہ شعر دیکھنا ہو تو مصحفی کا شعر پڑھیے اور سر دھنیے:
رات اندھیری ہے بہت اب تو چلے آؤ کہیں
کھڑکیاں لگ گئیں ہمسایوں کے در بند ہوئے
مصحفی اور مومن کے درمیان اصل فرق، روزمرہ کی عاشقانہ دنیا اور صورت حال کو بالترتیب نامیاتی اور غیر نامیاتی طور پر پیش کرنا ہے۔ جس کے نتیجے میں مصحفی کا پلڑا ہر صورت میں بھاری رہتا ہے۔
ارسلان راٹھور

